ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جئے رام رمیش نے چین کے معاملے پر وزیر خارجہ سے چار سوال پوچھے

جئے رام رمیش نے چین کے معاملے پر وزیر خارجہ سے چار سوال پوچھے

Wed, 21 Dec 2022 12:30:38    S.O. News Service

الور ؍جئے پور، 21؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی)  کانگریس کے جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے آج وزیر خارجہ جئے شنکر سے بھارت جو ڑویا ترا کے دوران چین کے معاملے پر ان سے چار سوالات پوچھے ہیں -رمیش نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم وزیر خارجہ کے اس بیان سے پوری طرح اتفاق کرتے ہیں کہ ہمارے جوانوں کا احترام،ان کی تعریف اوران کے ساتھ شایانِ شان سلوک کیا جانا چاہئے کیونکہ وہ ہمارے دشمنوں کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں - لیکن کیا یہ وہی غیرت کا جذبہ تھا، جس نے وزیر اعظم مودی کو 19 جون 2020 ء کے واقعہ کے بعد جس میں ہمارے 20 جوانوں نے ہماری سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانوں کی عظیم قربانی دی، یہ کہنے پر آمادہ کیا کہ ہمارے ملک کی سرحد میں کوئی داخل ہی نہیں ہوا؟انہوں نے ایک اور سوال کیا کہ وزیر خارجہ کا یہ دعویٰ کہ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات معمول کے نہیں ہیں - پھر ہم نے چینی سفیر کو بلا کر اعتراض درج کیوں نہیں کرایا،جیسا کہ ہم پاکستان کے ہائی کمشنر کو بلا کر کرتے ہیں؟ چین پر ہمارا تجارتی انحصار 2021-22ء میں ریکار ڈبلندی پر کیوں پہنچ گیا ہے جس میں 95 بلین ڈالر کی درآمدات اور 74 بلین ڈالر کا تجارتی خسارہ ہے-

گذشتہ ستمبر میں روس کی ووسٹوک 22 مشق میں ہمارے فوجیوں نے چینی فوجیوں کے ساتھ فوجی مشقیں کیوں کیں؟انہوں نے تیسر اسوال کیا کہ وزیر خارجہ کہتے ہیں کہ ہم چین کو یکطرفہ طور پر ایل اے سی کی پوزیشن تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، لیکن کیا چینی فوجیوں نے گذشتہ دو سال سے ڈیپ سانگ میں 18 کلو میٹر اندر آکر جمود کو تبدیل نہیں کیا؟ کیا یہ پوزیشن اس حقیقت کے پیش نظر تبدیل نہیں ہوتی کہ ہمارے فوجی مشرقی لداخ میں 1000 مربع کلو میٹر کے علاقے میں گشت کرنے سے قاصر ہیں جہاں وہ پہلے گشت کیا کرتے تھے؟

کیا یہ پوزیشن اس حقیقت کی روشنی میں تبدیل نہیں ہوتی کہ ہم نے بفر زون کی ترتیب پر اتفاق کیا ہے جو ہمارے گشت کو ان علاقوں میں جانے سے روکتا ہے جہاں وہ پہلے جاسکتے تھے؟ وزیر خارجہ کب واضح الفاظ میں اعلان کریں گے کہ ہمارا مقصد 2020ء سے پہلے کے تعطل کو بحال کرنا ہے؟جئے رام رمیش نے مزید سوال کیا کہ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم چین پر دباؤ ڈال رہے ہیں، پھر ہمارا نقطہ نظر خالصتاًر جعتی کیوں ہے؟ ہم نے 2020 ء سے پہلے جمود کی مکمل بحالی کو یقینی بنائے بغیر کیلاش پہاڑی سلسلے میں اپنی حکمت عملی کے لحاظ سے فائدہ مند پوزیشن سے کیوں پیچھے ہٹ گئے؟


Share: